اقلیتوں کیلئے 10ہزار کروڑ روپئے مختص کئے جائیں۔ ریاست کی سب سے بڑی زبان اردو کی ترقی کے لیے شمالی کرناٹک میں اردو یونیورسٹی قائم کی جائے
بنگلورو/میسورو(ایس او نیوز/پریس ریلیز) وزیر اعلی بسوا راج بومئی بجٹ پیش کرنے کی تیاری میں ہیں۔ ایسے میں سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کرناٹک شاخہ نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ بجٹ عوام نوازہونا چاہئے اور غریبوں، متوسط طبقوں، درج فہرست ذاتوں / طبقات اور پسماندہ طبقات اور اقلیتوں سمیت سماج کے تمام طبقات کے لیے فائدہ مند ہونا چاہیے۔ میسور میں منعقد پریس کانفرنس میں ریاستی صدر عبدالمجید میسور نے بجٹ کے تعلق سے انگریزی، کننڈا، اردو زبانوں میں ایس ڈی پی آئی کے مطالبات پر مشتمل کتابچہ کا اجراء کیا۔ اس موقع پرانہوں نے کہا کہ عوام نوا ز بجٹ پیش کرنے کے مطالبے کو لیکر ایس ڈی پی آئی ریاست کے تمام اضلاع میں پریس کانفرنس کرکے اپنے مطالبات کو حکومت اور عوام تک پہنچارہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے مطالبات مندرجہ ذیل ہیں۔
تعلیم
٭۔پرائمری اسکول سے لیکر اعلی تعلیم تک یکساں اور مفت تعلیم فراہم کیاجائے۔ ٭۔ریاستی اسمبلی میں قرارداد پاس کی جائے کہ ریاست میں قومی تعلیمی پالیسی کو نافذ نہیں کیا جائے گا جو طلبہ کے مستقبل کے لیے مہلک ہے اور پورے تعلیمی نظام کو تجارتی بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ تعلیم کیلئے مرکزی حکومت سے کرناٹک کو کم از کم 30 ہزار کروڑروپے کی خصوصی گرانٹس دینے کے لیے اصرار کرنا چاہئے۔ تمام تعلقہ سینٹر اور ٹاؤن پنچایتوں کے دائرہ اختیار میں ہر طرح سے لیس کم از کم ایک سرکاری ڈگری کالج قائم کیا جائے۔٭۔ ہر تعلقہ اور گرام کی سطح پر طلباء کیلئے ہوسٹل قائم کیے جائیں۔ موجودہ ہاسٹلز کو اپ گریڈ کیا جائے اور ہر طالب علم کے لنچ الاؤنس میں اضافہ کیا جائے۔٭۔ زیادہ تر ریاستی سرکاری اسکول، خاص طور پر پرائمری اور ہائی اسکول کی عمارتیں خستہ حال ہیں۔ انہیں دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ اسکولوں کالجوں میں بیت الخلاء، کھیل کے میدانوں اور تجربہ گاہوں کے نظم پر زیادہ زور دیا جانا چاہیے۔ خالی اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کی بھرتی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔٭۔ شہید ٹیپو سلطان کے نام سے امریکی ماڈل پر کرناٹک میں ایرو اسپیس اینڈ ایروناٹیکل ریسرچ سینٹر قائم کیا جائے نیزشہید ٹیپو سلطان کے نام پر اسٹڈی سینٹر یا یونیورسٹی قائم کی جائے۔٭۔ ریاست کے ایسے اضلاع میں جہاں کوئی سرکاری میڈیکل کالج نہیں ہے سرکاری میڈیکل کالج قائم کیا جائے۔
صحت
٭۔ہر شہری کو مفت طبی سہولیات فراہم کریں۔ تمام تعلقہ مراکز میں تمام سہولیات اور ہر قسم کی بیماریوں کے مفت علاج کے ساتھ جدید ترین، ملٹی اسپیشلٹی ہسپتال بنائے جائیں۔٭۔ ہر گاؤں کی پنچایت کے حدودمیں ایک پرائمری ہیلتھ سینٹرکھولا جائے۔
اقلیتی محکمہ
اقلیتی محکمہ کا بجٹ بڑھا کر 10 ہزار کروڑ روپے کیا جائے۔
٭۔ اقلیتی محکمہ کو تعلیمی بیداری پروگراموں پر زیادہ زور دینا چاہیے۔ قرض سکیم گرانٹ کی رقم کو دوگنا کیا جائے اورمکمل طور پر بلاسود ی قرضہ جاری کیا جائے۔٭۔ ریاست کی سب سے بڑی زبان اردو کی ترقی کے لیے شمالی کرناٹک میں اردو یونیورسٹی کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اردو اکیڈمی کو مزید گرانٹ دی جائے۔٭۔کنڑ اور اردو سرکاری اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کارروائی کی جائے۔ اس کیلئے مزید گرانٹس جاری کی جائیں۔
محکمہ سماجی بہبود اور پسماندہ طبقات
٭۔درج فہرست ذاتوں / طبقات اور پسماندہ طبقات کے لیے مختص کی گئی گرانٹ کولازمی طور پراسی مقصد کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے۔ کسی بھی وجہ سے دوسرے محکموں کو گرانٹس تبادلہ نہ کی جائیں۔
٭۔ ایسے افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے جو درج فہرست ذاتوں / طبقات اور پسماندہ طبقات کے لیے مختص گرانٹ کا مناسب استعمال نہیں کرتے۔
جسٹس سداشیوا کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کا مطالبہ
٭تقریباً 25 سال سے زیادہ عرصے سے اچھوت کمیونٹیز کا مطالبہ رہے سداشیوا کمیشن رپورٹ کو جاری کرنے کے لیے مرکز کو سفارش کرنے کی ضروری کاروائی کرنی چاہیے۔ اس رپورٹ کے ذریعے اچھوت برادری کو دھوکہ دے کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے عمل پر فوری روک لگانی چاہئے۔کانتاراج کمیشن کی رپورٹ جاری کی جائے۔٭)۔ ریاست کے لوگوں کے سماجی، اقتصادی اور تعلیمی سروے کے ذریعے سرکاری مراعات کی مساوی تقسیم کے مقصد سے کمیشن کی تشکیل کرکے اب تک تقریباً 200 کروڑ روپے تک خرچ کئے گئے مگر رپورٹ جاری نہیں کی گئی۔ لہٰذا کانتا راج کمیشن کی رپورٹ کو فوری جاری کیا جانا چاہئے۔
)۔آدیواسی، خانہ بدوش، قبائلی بہبود پروگرام
٭۔ ریاست کے آدیواسی، خانہ بدوش اور قبائلی ترقیاتی پروگراموں کے لیے مختص رقم مناسب طور پر استعمال نہ ہونے کی وجہ سے ان کی زندگیاں مشکل میں پڑ گئی ہیں۔ ریاست میں 47 سے زائد کمیونٹیز اب بھی سرکاری ریکارڈ میں غائب ہیں، جو اس ملک کی المناک انتظامیہ کا آئینہ ہے۔ فوری طور پر آدی واسی، خانہ بدوش اور قبائلی بہبود کے پروگراموں کے لیے تقریباً 5000 کروڑ روپے مختص کیے جائیں اور اس کے مناسب استعمال کے لیے قانون بنایا جائے۔
لوکل باڈی انتظامیہ
٭ گرام پنچایت، تعلقہ پنچایت، ٹاؤن پنچایت، میونسپلٹی اور ٹاؤن میونسپلٹی کو دی جانے والی ریاستی گرانٹ کو دوگنا کیا جائے۔ منتخب اراکین کے ماہانہ اعزازیہ میں اضافہ کیا جائے۔ ہاؤسنگ پلان لینڈ شیئرنگ کا اختیار بلدیاتی اداروں کو دیا جائے۔ بلدیاتی اداروں کو اربن ڈویلپمنٹ فنڈ استعمال کرنے کا مکمل اختیار دیا جائے۔ اراکینِ اسمبلی کو مداخلت کا موقع نہ دیا جائے۔
امن اور ہم آہنگی
٭۔ ریاست میں مذہب، ذات پات، جنس اور زبان کی تفریق کو ختم کرنے اور ہمیشہ کے لیے امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی عوامی بیداری کے پروگرام، مہمات، کیمپس تعلیمی اداروں اور مختلف سرکاری محکموں کے ذریعے منعقد کرنے چاہئیں۔ اس کے لیے کم از کم ایک ہزار کروڑ روپے مختص کیے جائیں۔٭ فرقہ وارانہ نفرت اور فسادات میں ہونے والے جانی،مالی، تجارتی نقصان میں معاوضہ دینے کے لیے کم از کم سالانہ 2 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
٭۔مذہبی اور ذات پات کی بنیاد پر تشدد کی روک تھام کے قانون کا نفاذ کیا جائے۔
روزگار
٭۔ خشک سالی، مہنگائی اور وبائی امراض کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لاکھوں نوکریاں تباہ ہو چکی ہیں۔ کاروبار ختم ہوگئے ہیں۔ ان کی بازیابی پر زیادہ زور دیا جانا چاہیے۔٭۔این ایس ایس او (نیشنل سیمپل سروے آف انڈیا) کے مطابق، ملک کی بے روزگاری کی شرح ملکی تاریخ میں پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کے لیے بھارت کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کو خود کا کاروبار شروع کرنے کے لیے ضروری قرضہ سہولیات فراہم کرنی چاہئیں اور اس وقت تک بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ 5000 روپے الاؤنس دیا جائے۔
٭۔نجی شعبے میں ریزرویشن کی پالیسی اپنانے والے اداروں /کمپنیوں کے لیے ٹیکس کٹوتی/ مراعات کی ادائیگی۔
٭۔ خالی سرکاری نوکریوں کو پر کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
٭۔پرائیویٹ کارپوریٹ اور دیگر این جی اوز کی ملازمتوں میں کم از کم % 30 ملازمتیں معاشی طور پر کمزور، درج فہرست ذات / طبقات اور پسماندہ طبقات اور مذہبی اقلیتوں کے لیے ریزرو کرنے کے لیے سخت کارروائی کی جائے۔ایک خاندان کیلئے کم از کم ایک سرکاری ملازمت کی پالیسی لازمی طور پر لائی جائے۔
ٹیکس پالیسی
٭۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے ریاستی ٹیکسوں کو کم کیا جائے اور ان دونوں کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لاینے کے لیے مرکز سے اصرار کیاجائے۔
٭۔ مرکز پر روز مرہ استعمال کی اشیاء اور کھانے کی اشیاء پر جی ایس ٹی ٹیکس کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالناچاہئے۔
٭۔جی ایس ٹی سمیت دیگر ٹیکسوں کی وصولی میں ریاستی حکومتوں کے حقوق اور فرائض کو دھچکا پہنچایا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومتوں کوآمدنی کے ذرائع نہ ہو کر خزانہ خالی ہو رہا ہے۔ جی ایس ٹی کے قوانین کو فوری طور پر عوام کے لیے آسان بنایا جانا چاہیے اور متعلقہ ریاستوں کے حصے کی بروقت ادائیگی کے لیے ایک آٹومیٹک فنانسنگ میکانزم کو لاگو کیا جانا چاہیے۔
صنعت
٭۔ صنعت اور انفراسٹرکچر ریاست کی مجموعی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم گزشتہ بجٹ میں ان شعبوں کی ترقی کے لیے کوئی قابل ذکر اعلانات نہیں کیے گئے۔ اس لیے حکومت کو اس بار کے بجٹ میں اس کا خیال رکھنا ہوگا۔ صنعتوں کے قیام پر زور دیتے ہوئے ریاست میں بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنا ہوگا۔
٭۔ چھوٹی صنعتیں زیادہ کاروبار اور روزگار پیدا کرتے ہیں، اس لیے چھوٹی صنعتوں کو خصوصی مراعات دی جائیں۔
انتظامیہ میں سدھار
٭۔یڈی یورپا کی حکومت نے کہا تھا کہ ہماری حکومت ایک ترقی یافتہ اور خوشحال کرناٹک کے لیے پرعزم ہے۔ لیکن اس نے ریاست کی ہمہ جہت ترقی کے لیے مختلف محکموں کو مربوط بنانے کے لیے بجٹ کی محکمانہ وار تقسیم کے بجائے چھ شعبوں میں تقسیم کیا تھا۔ یڈی یورپا کی اس وقت کی حکومت کا یہ فیصلہ غیر سائنسی تھا اور اس طرح محکمانہ وار ترقی نہیں ہو سکی۔ لہٰذا آئندہ بجٹ میں گرانٹس کو محکمانہ وار بنیادوں پر مختص کیا جائے۔
٭۔ عالمی بینک کی ہدایت کے مطابق نافذ کردہ مالیاتی ذمہ داری ایکٹ 2002 اور دیگر پابندی والے مالیاتی ضوابط کو آسان بنانے کے لیے اصرار کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ Karnataka Govt structural Adjustment Loan پہلے ہی 2 دہائیوں پرانا ہے اس لیے ماہرین کے ایک پینل کے ذریعہ موجودہ صورت حال کا جائزہ لینے پر زور دیا جائے۔
٭۔ لوہے، تانبے، گرینائٹ سونے اور دیگر قدرتی وسائل کی کان کنی کے لیے نئی پالیسی جاری کرنا ضروری ہے اور ٹیکس وصولی کے لیے آسان نظام جاری کیا جائے۔
زراعت
٭۔ کسانوں کے قرضہ کا مکمل طور پر معافی کا اعلان کیا جانا چاہئے۔ کسانوں کی صحت اور زندگی کی بیمہ کی منصوبہ بندی کو بہتر بنانا چاہئے۔
٭۔ کسانوں کی امدادی قیمتوں، مارکیٹنگ کے نظام اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ دلالوں کی روک تھام کے لیے سخت قانون لایاجائے۔کسانوں کی کریڈٹ اسکیموں کو مزید آسان بنایا جائے۔
٭۔گؤ کشی پر پابندی کے قانون کی وجہ سے نقصان کا شکار کسانوں کو امدادی قیمت دی جائے۔
٭۔طاقتوروں سے سرکاری اراضی کے قبضے کے خاتمے کے لیے سخت قانون نافذ کیا جائے۔ قبضہ کی گئی زمینیں، لینڈ بینک خالی کر کر بے زمین کسانوں میں تقسیم کیا جائے۔
٭۔ بے زمین دلت، اقلیتی اور پسماندہ طبقات کے کسانوں کو فی کس دو ایکڑ سرکاری زمین دی جائے۔ جن مقامات پر سرکاری اراضی نہیں ہے وہاں پرائیویٹ افراد سے خرید کر دی جائیں۔ اس کے لیے کم از کم 30,000 کروڑ روپے مختص کیے جانے چاہئیں۔
* ایک خاندان کے لیے کم از کم ایک سرکاری ملازمت کی پالیسی لازمی طور پر جاری کی جائے۔
)۔ننجنڈپا رپورٹ۔ ڈاکٹر سروجنی مہیشی رپورٹ پرعمل درآمد کا مطالبہ۔
٭۔ حکومت ترقیاتی عدم مساوات کے لحاظ سے انتہائی پسماندہ تعلقہ کی جامع ترقی کے لیے ننجنڈپا رپورٹ کی سفارشات پر سنجیدگی سے غور کرکے ترجیح دینی چاہیے۔
٭۔ ترقی میں علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کے لیے منتخب اراکین اور ماہرین کی ایک کمیٹی مقرر کی جائے۔
دوسری ریاستوں سے آنے والے تارکین وطن اور یہاں کے مقیم افراد کے لیے ابتدائی تعلیم کنڑ میں ہی ہونی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ روزگار کنڑیوں کے لیے مختص ہونا چاہیے۔
٭۔ ترقی کے معاملے میں نظرانداز ی کا شکار اتر کرناٹک اور کوڈاگو اضلاع کو اعلی ترجیح دی جانی چاہئے۔
٭۔راجندر سچر رپورٹ اور جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کے نفاذ میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔
ہاؤسنگ اور سروس
٭۔ تمام پارٹیوں کے نعرے کہ جھونپڑ پٹی سے پاک ریاست صرف نعرے ہیں۔ریاست کو جھونپڑیوں سے پاک اور پناہ گزینوں سے پاک ریاست بنانے کے لیے موثر پروگرام تیار کیے جائیں۔
٭۔ ہر گھر کو بجلی اور پینے کے پانی کی ایک خاص مقدار مفت فراہم کی جائے۔
٭۔لیبر ویلفیئر
٭محکمہ محنت اور غیر منظم شعبہ
٭۔ مزدوروں کی بہبود کے پروگراموں کا مؤثر نفاذ کرکے غیر منظم مزدوروں، آٹو، لاری اور ٹیکسی ڈرائیوروں، بیڑی مزدوروں، عمارتی کارکنوں اور گھریلو ملازموں کے لیے مکمل طور پر مفت صحت، لائف انشورنس، حادثہ اور موت کا معاوضہ دستیاب کرایا جائے۔
٭۔ مختلف اسکیموں کے تحت ریاست میں تمام آٹو ڈرائیوروں، کیب ڈرائیوروں، مال بردار اور ایمبولینس ڈرائیوروں کو مختلف منصوبہ جات کے تحت مدد کے لیے ہر سال 500 کروڑ روپے کی گرانٹ مختص کی جائے۔
٭۔ کرناٹک اسٹیٹ آٹو، ٹیکسی اور مال بردار ڈرائیورز ویلفیئر فنڈ کا قیام کرتے ہوئے 500 کروڑ روپے کی گرانٹ دی جائے۔
محکمہ توانائی
٭۔ زراعت پر مبنی سرگرمیوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کو مفت بجلی فراہم کی جائے۔
٭۔ریاست کرناٹک میں ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ سے زائد زرعی پمپ سیٹ ہیں جنہیں مفت بجلی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی مصنوعات کی نقل و حمل کے لیے بالکل مفت سہولت۔
محکمہ بجلی میں مکمل اصلاحات
٭۔ کرناٹک بجلی ریفارم ایکٹ 1999 اور دیگر ایکٹ میں صارف مخالف پالیسیوں کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کا ایک پینل تشکیل دیا جائے۔
٭۔ انڈین یونین میں بجلی کی پیداوار اور تقسیم پر سینٹرل گرڈ کا کنٹرول بڑھ رہا ہے اور ریاستی حکومتوں کی خود مختاری کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی مقرر کی جانی چاہیے۔
٭۔ٹیکس کا نظام اور بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا نظام سرکاری اداروں کے ذریعے چلایا جائے تاکہ عوام پر بجلی کا بوجھ نہ پڑے۔
نقل و حمل
٭۔ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے لیے نئے ریونیو کی وصولی کے لیے محکمہ ڈاک اور کرناٹک مِلک فیڈریشنس کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے آپسی تعاون اور دستیاب سہولیات کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔
٭۔ طلباء کے بس پاس کے لیے علامتی کم فیس مقرر کی جائے۔
کارپوریشن – بورڈ
٭۔ بلوا ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے قیام کے لیے 500 کروڑ روپے مقرر کرنے کے لیے اصرار تاکہ ساحلی بلوا کے نوجوانوں کو خود روزگار اور دیگر سرگرمیوں میں مشغول ہونے کا موقع مل جائے۔
خواتین کی تقویت اور ہنر مندی کی ترقی
٭۔ہنر مندی کی تربیت
٭۔ ریاست کے تمام تعلقہ اور ہوبلی مراکز پر ہنر مندی کی تربیت کی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔
خواتین اور بچوں کی بہبود
٭۔ بچوں کی غذائی قلت کے خاتمے پر زیادہ زور دیا جانا چاہیے۔
)۔قدرتی آفت
٭۔کم از کم تیس ہزار کروڑ روپے سیلاب اور خشک سالی سے نجات کے لیے مختص کیے جائیں۔
ہنگامی اقدامات
٭۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
٭۔ہر ریونیو گاؤں میں جن سیوا کیندر قائم کیا جائے۔
بجٹ کے مجموعی معیارات
٭ ٹیکس کی پالیسی عوام سے وصولی اور امیروں کی جولی کی طرح ہے۔ یہ سب تبدیل کرکے لوگوں سے حکومت لیکر حکومت سے عوام کیلئے رہنے والی ٹیکس پالیسی کے لئے آواز بلند کرنا ہوگا۔
٭ کرناٹک حکومت کی کل سالانہ آمدنی کا 24%فیصدقرضوں پر سود کیلئے ادا کیا جارہا ہے۔ شفافیت کی پالیسی اپنائی جائے کہ قرضہ کس مقصد کیلئے لیا جارہا ہے۔پیداوری منصبوں کیلئے یا غیر پیداوری اخرجات کیلئے۔
٭آئندہ نئے قرضے بنائے جائیں تو تمام پارٹیوں کے ممبران اور منتخب ماہرین کی کمیٹی سے جائزہ لینے /منظوری دینے کی نئی پالیسی نافذ کی جائے۔
٭کرناٹک میں قائم ہوکر ترقی پائے ہوئے بینگوں کو شمالی ہندوستان کے دوسرے بینکوں کے ساتھ انضمام نہ کرنے پر زور دیا جائے۔
٭ریاست کے کل قرض پر سود کی ادائیگی کا بوجھ عام لوگوں پر بڑھتا جارہا ہے۔ غیر ضروری طور پر نئے قرض نہ لینے پر اصرار۔
اب تک لیے گئے قرضوں کے متعلق وائٹ پیپر کا مطالبہ
٭روڈ ٹول، پل، ریلوے اور آبی گزرگاہوں کے ذریعے حاصل رقم میں ریاستوں کے منصفانہ حصہ کا مطالبہ کیا جائے۔